ابن صفی
ایک زمانہ تھا کہ دنیائے ادب میں "اسرار ناروی" کا نام بڑا مقبول ہو رہا تھا۔ اس جیسے ابھرتے ہوئے شاعر سے نقادانِ فن کو خاصی توقعات وابستہ ہو چلی تھیں۔ اور بقول مجنوں گورکھپوری : خانوادہ نوح ناروی کے اس سپوت کی اُٹھان بڑی خوش آئیند تھی ! عین اسی زمانے میں ، جبکہ "طغرل فرغان" کے طنزیہ و مزاحیہ شہ پارے بھی قبولیتِ عام کی سند پا رہے تھے کہ اچانک یہ دونوں نام (اسرار ناروی اور طغرل فرغان) دنیائے ادب سے ناپید ہو گئے۔ یہ ہندوستان پر سے برطانوی اقتدار ختم ہونے سے کچھ دنوں پہلے کی بات ہے۔ مندرجہ بالا دونوں نام ختم ہو جانے کے بعد ایک تیسرا نام ابھر کر سامنے آیا : ابن صفی (بی۔اے) جو جاسوسی کہانیوں کے سلسلے میں بڑا مشہور ہو رہا ہے۔ یہ تینوں نام : اسرار ناروی ، طغرل فرغان اور ابن صفی ۔۔۔ دراصل ایک ہی شخص "اسرار احمد" کے قلمی بہروپ تھے۔ پہلے دو ناموں کو اسی شخص کا تیسرا قدآور نام "ابن صفی" نگل گیا۔ صرف "ابن صفی" ہی کہنا کافی نہیں ، "بی۔اے" کا دُم چھلا بھی ساتھ لگا ہوا ہے جو ایک طرح کا تخلص ہو کر رہ گی...